نئی دہلی28جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)عورت کومبینہ طورپر دھمکی دینے کے الزام میں گرفتار عام آدمی پارٹی(آپ) کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو آج ایک مقامی عدالت نے ضمانت دے دی۔ایڈیشنل سیشن جج ترپاٹھی نے اوکھلاسے رکن اسمبلی کوراحت فراہم کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش کیلئے ان کی ضرورت نہیں ہے اور ان کو جیل میں رکھنے سے کوئی مقصد پورانہیں ہوگا۔عدالت نے رکن اسمبلی سے کہاکہ وہ50000روپے کا ذاتی مچلکہ اور اتنی ہی ضمانت کی رقم جمع کرائیں۔جج نے کہاکہ عورت کو پہلے ہی مناسب پولیس سیکورٹی مل چکی ہے لہٰذا ثبوت سے چھیڑ چھاڑ یا ثبوتوں کو متاثر کرنے کاکوئی اندیشہ نہیں ہے۔ملزم کو ہدایت دی جاتی ہے کہ تفتیشی افسرکی جانب سے بلانے پرتحقیقات میں شامل ہوں۔مجسٹریٹ عدالت کی جانب سے 14دنوں کی عدالتی حراست میں بھیجے جانے کے بعد خان نے سیشن عدالت کا رخ کیاتھا۔مجسٹریٹ عدالت نے اس بنیاد پر ان کو عدالتی حراست میں بھیجا تھا کہ وہ گواہوں کو متاثر کر سکتے ہیں اور تحقیقات میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔خان کو پہلے 24جولائی کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیاگیاتھا۔اس سے ایک دن پہلے خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کی طرف الزام لگایا تھا کہ پولیس عورت پر غلط بیان دینے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے۔پولیس کے مطابق 22جولائی کو خاتون نے تعزیرات کی دفعہ164کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے بیان درج کروایا کہ جب وہ ممبر اسمبلی کے گھر سے لوٹ رہی تھی تب راستے میں ایک گاڑی سے اس کو کچلنے کی کوشش کی گئی اور اس گاڑی میں خود ممبر اسمبلی بیٹھے ہوئے تھے۔اس کا کہنا ہے کہ بجلی کی کٹوتی کی شکایت کرنے کے لیے وہ رکن اسمبلی کے گھر گئی تھی۔خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ وہ جب بیان دینے کے لئے عدالت آ رہی تھی اس وقت اس کے اوپر ایک موٹرسائیکل چڑھانے کی کوشش کی گئی۔